کیا سائنسی تحقیقات خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں؟

یہ ایک معمے کی طرح ہے۔ اگر آپ تمام حقیقتوں کو ایک ساتھ رکھیں گے تو آپ کو کس طرح کی تصویر نظر آتی ہے؟

میں  خدا کے وجود سے متعلق سوال کو حل کرنے کے لیے سائنسی دریافتوں کو استعمال کرنے جارہا ہوں۔

ہم سائنس کا استعمال حقیقت کو ممکنہ حد تک واضح طور پر بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

سائنسی دریافتیں معمے کے ٹکڑوں کی طرح ہوتی ہیں۔

اگر آپ سبھی ٹکڑوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔

تو آپ کو زندگی کے نمو کی کس طرح کی تصویر نظر آتی ہے؟

سب سے پہلے، اس کی کچھ حدود ہیں۔

خدا کو اس طرح نہیں سمجھا جاسکتا کہ، جس طرح ہم اپنے دیگر تجربات کرتے ہیں۔

خدا دوسرے ابعاد میں رہتا ہے۔

لیکن کچھ شکی لوگ کہتے ہیں کہ: «خدا ہمارے تصور کی پیدوار ہے»

تو پہلا سوال یہ ہے کہ: «کیا خدا کا وجود ہے؟»

آئیے ہم یہ مان لیں کہ خدا کا وجود نہیں ہے۔

تو پھر زندگی اور دنیا صرف ایک اتفاق ہے اور اس کے وجود کا کوئی جواز نہیں ہے۔

کیا ایسا ہوسکتا ہے؟

آئیے ہم کچھ حقائق کو دیکھیں۔ ہماری دنیا بِگ بینگ کے سبب وجود میں آئی۔

بِگ بینگ کو ممکن بنانے والی صرف کوئی زبردست طاقت ہی ہوسکتی ہے۔

ہماری زمین خلاء میں نسبتاً محفوظ ماحول میں واقع ہے۔

بہت سارے ایسے اہم عوامل ہیں جو زندگی کو ممکن بنانے کی شرطوں کی وضاحت کرتے ہیں۔

ہماری زمین کی پوزیشن اور قانون قدرت ایک بہتر طور پر منظم اور ہم آہنگ کُل کو عیاں کرتی ہے۔

ہمارے ڈی این اے کے ڈیزائن پر غور کریں۔

یہ معلومات کا ایک پیچیدہ اور منفرد کوڈ ہے۔

یہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کس قسم کے پروٹین سالمے بننے چاہئیں۔

صرف ایک معمولی سے خلیے کی تشکیل پروٹین کے  پانچ سو سالموں سے ہوتی ہے۔

یا پھر ‘آنکھ’ کو دیکھیں۔ یہ ایک مکمل طور پر ہم آہنگ نظام ہے جس میں 40 ذیلی نظام بالکل درست انداز میں ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

اس میں لاکھوں خلیے شامل ہیں۔ اس کی پیچیدگی حیرت انگیز ہے۔

مائیکرواسکوپ کے ذریعہ ہم انسانی دماغ کے خلیوں، آنکھوں اور ڈی این اے کی عظیم الشان پیچیدگیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

کیا آپ سوچتے ہیں کہ بالکل مکمل حیاتیاتی نظام اتفاقی طور پر ہوئے کسی عمل کا نتیجہ ہے؟

میرا مطلب ہے کہ کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ عدم سے وجود پیدا ہوسکتا ہے؟

اور اتفاقی واقعہ ایک عظیم الشان باہم مربوط پیچیدہ نظام پیدا کرسکتا ہے؟

ہم جو کچھ دیکھ سکتے ہیں اس کی بنیاد پر ہمیں معلوم ہے کہ معلومات کے پیچیدہ نظام کی تخلیق کے لیے ہمیں ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔

حرارتی حرکیات کا دوسرا اصول بیان کرتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سسٹمز کی پیچیدگی میں کمی آتی جاتی ہے۔

لیکن یہ چیز مادیت سے آگے کی بات ہے۔

اتفاقات ہمیں نظر آنے والے ستاروں اور ان کے رنگوں کی وضاحت نہیں کرسکتے۔

اتفاقات ہمارے سچائی، انصاف اور محبت کے شعور کی وضاحت نہیں کرسکتے۔

لہذا، خدا کا وجود اس حقیقت کو سمجھنے کی سب سے بہتر وضاحت ہے جو ہمیں نظر آتی ہے۔

مشہور سائنسداں البرٹ آئن اسٹان نے ایک بار کہا تھا:

«خدا کا وجود دنیامیں موجود ہر چیز میں ہم آہنگی اور بہترین ترتیب و تنظیم سے ظاہر ہوتا ہے»۔

آج کل، کافی سائنسداں یہ مانتے ہیں کہ زمین پر ہماری زندگی کی ترتیب و تنظیم میں انتہائی اعلی ترین ذہانت کارفرما ہے۔

یہ اعلی ترین ذہانت خدا کی ہے۔

دنیا کی آبادی کی اکثریت کا یقین ہے کہ خالق کا وجود ہے۔

لیکن خدا کے بارے میں لکھنے والے بہت سے لوگوں کی  مختلف کہانیوں کی بنیاد پر  بہت سے مذاہب ہیں۔

میں نے حصہ 3 میں یہ وضاحت کی ہے کہ آپ کسی مذہب کی حقانیت کی تشخیص کیسے کرسکتے ہیں۔

خاص طور پر، میں عیسائی عقیدے کے قدر کی چھان بین کروں گا۔

حصہ 2 دیکھنے کے لیے شکریہ۔ مجھے امید ہے کہحصہ 1 یا 3 میں ایک بار پھر ہماری ملاقات ہوگی۔

ضابطہ اور مذہب (سچائی کی تلاش حصہ 3a)
2018-12-11T13:19:51+00:00

Pin It on Pinterest

Share This